تازہ ترین
uren
بنیادی صفحہ / بنیادی صفحہ

جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہیں؛
کسی ہسپتال میں ایک بچے کو خون دیا جا رہا ہے۔ ایک معصوم بچی، عطیِئہ کردہ خون کی مدد سے بلڈ کینسر سے لڑ کر پھر سے زندگی کی طرف لوٹ رہی ہے، مسکرانا سیکھ رہی ہے۔ کسی اور وارڈ میں ایک ضعیف العمر کا علاج کیا جا رہا ہے۔ ان سب کا علاج آپ جیسے صحتمند لوگوں کے عطیئہ خون پر منحصر ہے اور آپ کا عطیئہ ہی ان کی زندگی کی ضمانت ہے۔عطیئہ خون سے آپ نہ صرف اپنے لئے جزا حاصل کر رہے ہیں بلکہ کئی قیمتی جانیں بچانے کا وسیلہ بھی بن رہے ہیں۔

عطیئہ خون کر کے آپ نہ صرف اپنے لئے جزا حاصل کر رہے ہیں بلکہ کئی قیمتی جانیں بچانے کا وسیلہ بھی بن رہے ہیں۔

کیا اپنے لئے زندہ رہنا حقیقی زندگی ہے یا انسانیت کی خدمت کرنے میں زندگی کی حقیقی معراج پنہاں ہے؟ دراصل ایک انسانی زندگی کا بہترین مقصدیہی ہے کہ دامے، درمے، قدمے، سخنےانسانیت کی خدمت کی جائے اور خون کا عطیئہ دینا بھی ایسا ہی ایک کارِعظیم ہے جو ایک انسان کو انسانیت کی معراج سے متعرف کرواتا ہے اور عطیئہ کرنے والے کو اس حقیقی خوشی اور اطمینانِ قلب سے آشنا کرتا ہے جو صرف ایک انسانی جان بچا کر مل سکتی ہے۔ امدادِ باہمی سرشت ِ انسانی ہے اور انسان کو اس سے قلبی سکون ملتا ہے، بالخصوص جب آپ کو یہ پتہ ہو کہ آپ کے وقت میں سے صَرف کیا گیا صرف ایک گھنٹا، اور آپ کے جسم سے لئے گئےایک بوتل خون کی بدولت کئی قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکیں گی۔ فرمان الہٰی ہے “جس نے کسی ایک کو زندگی بخشی، اس نے گویا تمام انسانوں کی زندگی بخشی” (المائدہ- ۳۲)- بےشک اللہ سبحان و تعالٰی نے ان لوگوں کو پسند فرمایا ہے جو کسی مادی صلے سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کرتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالٰی کے انعام کے حقدار ہوں گے۔

This post is also available in: English